خامنہ ای کی شہادت: AI اور سٹار لنک بھی ملوث، وال اسٹریٹ جنرل کا بم شیل انکشاف

​نیویارک/تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جنرل’ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے پیچھے چھپے جدید ترین ٹیکنالوجی کے کھیل سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ کسی روایتی انٹیلیجنس کا نتیجہ نہیں بلکہ 7 ماہ پر محیط ایک پیچیدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) مشن کا شاخسانہ تھا، جس کی قیادت کلاؤڈ اے آئی (Cloud AI) نامی سسٹم کر رہا تھا۔ اس سسٹم نے اربوں سگنلز، سیٹلائٹ تصاویر اور تہران کے ٹریفک پیٹرن کا تجزیہ کر کے وہ مخصوص ‘ونڈو’ تلاش کی جہاں ایرانی قیادت ایک چھت کے نیچے موجود تھی۔ [01:46]

​سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ حملے سے چند گھنٹے قبل جہاں اے آئی سسٹم نے تہران کے مرکزی علاقے میں خامنہ ای صاحب اور 11 اعلیٰ حکام کی موجودگی کی تصدیق کی، وہیں ان کے انتہائی قریبی حلقے (Inner Circle) میں موجود ایک شخص نے بھی عین اسی مقام اور وقت کی مخبری کر دی۔ جب ہیومن انٹیلیجنس اور اے آئی کی رپورٹ 100 فیصد میچ کر گئی تو پینٹاگون نے رات کی تاریکی کا انتظار کرنے کے بجائے دن کی روشنی میں حملے کا فیصلہ کیا اور 200 جنگی جہاز روانہ کر دیے۔ [03:03] یہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جہاں کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کی کلنگ کی مکمل کمانڈ مصنوعی ذہانت کے ہاتھ میں تھی۔

​رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس مشن کے لیے ایلون مسک کے ‘اسٹار لنک’ (Starlink) سسٹم کو بھی استعمال کیا گیا تاکہ ڈرونز اور میزائلوں کا رابطہ کسی صورت منقطع نہ ہو سکے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خامنہ ای ان کے جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے۔ اس غداری اور ٹیکنالوجی کے گٹھ جوڑ نے ایران کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اے آئی کے ذریعے موت کا نقشہ تیار کرنے اور اندرونی مخبری کی مکمل ہوش ربا تفصیلات جاننے کے لیے سنیئر صحافی معظم فخر کا یہ وی لاگ دیکھئے:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button