سندھ کابینہ اجلاس میں سولر انرجی پروجیکٹ میں 3 بلین روپے کے فراڈ کا انکشاف

کنٹریکٹنگ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی، انکوائری اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی ہدایت

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں 3 بلین روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے ۔ متعلقہ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کردی گئی ہے جبکہ معاملہ اینٹی کرپشن کے سپرد کیا جائے گا۔

سندھ کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ہوا۔جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

کابینہ اجلاس میں سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں 3 بلین روپے کے فراڈ کا انشکاف ہوا جس پر سندھ کابینہ نے کنٹریکٹنگ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی۔کابینہ نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں ہونے والے فراڈ کی انکوائری اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔سندھ سولر انرجی پروجیکٹ 27.4 بلین روپے کا منصوبہ ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسلام کوٹ تا چھوڑ اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کا کام کیا جائے گا،اکتوبر 2025ء میں سندھ حکومت اور وزارت ریلویز کے درمیان ایم او یو ہوا تھا،ایم او یو کے تحت وزارتِ ریلوے کو تھر سے کوئلے کی نقل و حمل کے لئے ریلوے لائن تعمیر کرنی ہے، پروجیکٹ کے تحت تھر کول سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر ڈبل ٹریک ریلوے لائن بچھائی جائے گی، کوئلے کی انلوڈنگ کی سہولت پورٹ قاسم پر بنائی جائے گی، سندھ حکومت اور وزارتِ ریلویز کے درمیان برابر کی شراکت داری ہے۔منصوبے کی ابتدائی لاگت 75 ارب روپے تھی، اراضی کی لاگت بھی 50 فیصد ایکویٹی شیئر کے طور پر شمار ہوگی، پروجیکٹ کی پی سی ون 53.72 ارب روپے منظور ہو چکی ہے، سندھ حکومت 26.86 ارب روپے اور 6.61 ارب روپے پہلے ہی مختص کر چکی ہے، اب منصوبے کی کل لاگت 90 ارب روپے ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کی منظوری سے 6.61 ارب روپے فوری جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔

سندھ کابینہ کو سولر ہوم سسٹم منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ غریب گھرانوں کے لیے آف گرڈ اور آن گرڈ سولر کٹس کی فراہمی کا منصوبہ جاری ہے۔سولر ہوم سسٹم منصوبہ کی لاگت 18.8 ارب روپے ہے۔2 لاکھ 50 ہزار سولر ہوم سسٹم کٹس فراہم کی جائیں گی۔ایک لاکھ 20 ہزار کٹس تھر، کوہستان اور کچے کے علاقوں کے آف گرڈ گھرانوں کے لیے ہوں گی۔ایک لاکھ 30 ہزار کٹس آن گرڈ مستحق صارفین (0 تا 100 یونٹ) کو دی جائیں گی۔ہر کٹ میں سولر پینل، بیٹری، ایل ای ڈی لائٹس، ڈی سی فین اور موبائل چارجنگ کی سہولت شامل ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام کٹس غریب گھرانوں کو مفت فراہم کی جائیں گی، کابینہ نے این آر ٹی سی انرجیز کو فی کٹ 219 امریکی ڈالر کے نرخ پر درآمد کا ٹھیکہ دیا ہے۔ایک لاکھ کٹس کی ادائیگی کے لیے 5.518 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔این آر ٹی سی کی جانب سے 25 ہزار اضافی کٹس بھی مفت دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔کٹس کے سیمپلز کے ٹیسٹ این ای ڈی کراچی، پی سی ایس آئی آر اور یو ای ٹی لاہور میں مکمل کیے جا چکے ہیں۔فیکٹری ایکسپٹنس ٹیسٹ (ایف اے ٹی) کے لیے پی ایم یو ٹیم چین روانگی کی تیاری کر رہی ہے۔

کابینہ کہ بتایاگیا کہ ایک لاکھ نئی کٹس این جی اوز کے ذریعے گھروں تک پہنچائی جائیں گی، ایک لاکھ 67 ہزار 746 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے۔مانیٹرنگ ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم میں رئیل ٹائم ٹریکنگ شامل ہوگی، سولر انسٹالیشن کی موبائل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے، 26 این جی اوز کی جانب سے دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، پروپوزلز کا جائزہ جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کی شفاف، بروقت اور سخت نگرانی کا حکم دیا۔

مزید خبریں

Back to top button