پیپلز پارٹی کا مطالبہ مسترد،گندم کی امدادی قیمت 3500 مقرر

اسلام آباد(jano.pk)وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کر دی ہے ۔ وفاقی حکومت نے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دے دی۔ صرف ایک روز قبل وفاقی حکومت میں مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی سینیٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے امدادی قیمت 4 ہزار 200 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ سندھ کے وزیر خوراک محمد بخش مہر نے اتوار کو اپنے بیان میں یہی مطالبہ کیا تھا کہ گندم کی امدادی قیمت 4200 روپے مقرر کی جائے تاکہ خوراک کی قلت پیدا نہ ہو ۔ تاہم وفاقی حکومت  نے گندم کی 2025-26ء پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے امدادی قیمت 3500 روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا ۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تقریباً 6.2 ملین ٹن کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی، خریداری 3500 روپے فی من، گندم کی بین الاقوامی درآمدی قیمت کے مطابق کی جائے گی،یہ اقدام مارکیٹ کی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو منصفانہ قیمت و منافع کو یقینی بنائے گا، گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گندم پالیسی 2025-26 سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ جس میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلی کے نمائندے، جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔

شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور گندم کی فصل کلیدی اہمیت کی حامل ہے، یہ نہ صرف پاکستان کے لوگوں کی بنیادی خوراک ہے بلکہ ملک کے کسانوں کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، کسانوں کی فلاح و بہتری کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں،کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پالیسی کیلئے وفاقی حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول صوبائی حکومتوں، کسان تنظیموں، صنعتکاروں اور کاشتکار برادری کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی عمل کیا، جس کی بنیاد پر، حکومت قومی گندم پالیسی 2025-26 کا اعلان کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پالیسی کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کسانوں کے منافع کو یقینی بنانا ہے، اتفاق رائے پر مبنی پالیسی تیار کرنے میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ یہ پالیسی زرعی ترقی کو فروغ دے گی، پالیسی سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، یہ پالیسی پاکستانی عوام کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اجلاس کے شرکا کو پالیسی کے نمایاں خدوخال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ  وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2025-26 کی گندم کی فصل سے تقریباً 6.2 ملین ٹن کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی اور خریداری 3,500 روپے فی من، گندم کی بین الاقوامی درآمدی قیمت کے مطابق کی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اقدام مارکیٹ کی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو منصفانہ قیمت و منافع کو یقینی بنائے گا، پالیسی کے تحت پاکستان بھر میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ گندم کی نگرانی کی ایک قومی کمیٹی کی صدارت کریں گے، کمیٹی میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ یہ کمیٹی پالیسی اقدامات پر عمل درآمد اور ہم آہنگی کی نگرانی کرے گی۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس کرے گی اور براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرے گی، کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت دی جائے گی اور حکومت مستحکم ذخائر اور کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کافی اسٹاک خریدے گی۔

مزید خبریں

Back to top button