عمران خان کے کیس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی فرق ڈال سکتے ہیں: قاسم خان

برطانوی صحافی پیئرز مورگن کے ساتھ انٹرویو

لندن (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شخصیت قرار دیا ہے جو ان کے قید والد کے کیس میں حقیقی فرق لا سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی صحافی پیئرز مورگن کے ساتھ انٹرویو میں جب سوال کیا گیا کہ کیا اُن کا ٹرمپ کے لیے کوئی پیغام ہے، تو قاسم خان نے کہا: اگر کسی سے فرق پڑ سکتا ہے تو وہ (ٹرمپ) ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دبئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق رابطہ کار اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے رچرڈ گرینل سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

قاسم خان نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور والد کے درمیان تعلقات گرم جوش تھے۔ جب دونوں ہی عہدے پر تھے، اُن کے درمیان بات چیت انتہائی مثبت تھی اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ کوئی بیان دیں یا کسی طور پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں، تو وہ ان چند افراد میں سے ایک ہیں جو واقعی فرق لا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ تین سال سے وہ والد سے آخری ملاقات کے بعد کسی رابطے میں نہیں رہے، اور چار ماہ سے ان سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ قاسم نے اس صورتحال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ پہلے وہ باقاعدگی سے والد سے رابطے میں رہتے تھے۔

ادھر قاسم اور سلیمان نے انکشاف کیا کہ پاکستان جانے کی کوشش کے دوران حکومتی ذرائع نے انہیں خبردار کیا کہ انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے، اور فی الحال جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

سلیمان خان نے کہا کہ اگر وہ پاکستان نہ بھی جا سکیں تو بیرون ملک سے والد کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانوی حکومت سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں ہوا۔

قاسم خان نے ریاستی حکام کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا: سب سے پہلے جمہوریت کا احترام کریں، عوام کی مرضی کی تعیین کا خیال رکھیں، اور والد کو منصفانہ ٹرائل دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ دونوں والد کی حمایت میں پاکستان جاکر گرفتاری کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہیں: ہم نے جانا ہے، جو ہوگا، سو ہوگا۔ لیکن ہم پوری کوشش کریں گے کہ جائیں—چاہے کسی کو اچھا لگے یا نہ لگے۔

مزید خبریں

Back to top button