عمران خان کی پانچ اگست کی احتجاجی تحریک پر "مومینٹم” کی کمی پر تشویش، اختلافات ختم کرنے کی ہدایت
دوسری جانب عمران خان کے بیٹے، سلیمان اور قاسم، امریکا میں سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے رہنماؤں کو پانچ اگست کو ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہنے اور آپس کے تمام اختلافات فوری ختم کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ اس وقت پارٹی میں تحریک کے لیے جوش و خروش کی کمی سے سخت پریشان ہیں، اور تمام رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ اختلافات بھلا کر عوامی تحریک پر مکمل توجہ مرکوز کریں۔
بیان میں کہا گیا: فی الوقت پانچ اگست کی تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا، جو کہ باعث تشویش ہے۔ میں 78 سالہ پرانے نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بدترین ریاستی ظلم کے باوجود عوام آج بھی میرے ساتھ کھڑے ہیں۔
عمران خان نے اپنے بیان میں پارٹی رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ اگر اس نازک موقع پر گروپ بندی یا اندرونی لڑائیوں میں وقت ضائع کیا گیا تو یہ شرمناک عمل ہوگا اور جو بھی اس میں ملوث پایا گیا، اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی میں دراڑ ڈالنا میرے وژن اور مشن سے کھلی غداری ہو گی۔
پانچ اگست کے احتجاجی پلان پر اس وقت ابہام پیدا ہوا جب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس تحریک کو "آخری دھکا” قرار دیتے ہوئے 90 روزہ نئی ٹائم لائن کا عندیہ دیا۔ اس بیان پر پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد پارٹی میں اختلافات کی خبریں سامنے آئیں۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے سختی سے کہا کہ پارٹی قیادت کو میڈیا پر آ کر داخلی معاملات پر بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
پیغام میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا گیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو ’مفلوج‘ کر دیا گیا ہے۔ آج جو فیصلے آ رہے ہیں، وہ جانبدار ججوں کے ذریعے دیے جا رہے ہیں، عدلیہ کی آزادی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں حالت کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا اور اپنی قید کے حالات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کے لیے سب سے سخت قید کاٹ رہا ہوں، وضو کے لیے دیا جانے والا پانی بھی آلودہ ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پانچ اگست کو ہونے والا ملک گیر احتجاج "تحریک تحفظ آئین پاکستان” (ٹی ٹی اے پی) کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا۔ مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات کے مطابق تمام صوبائی تنظیمیں اپنے اپنے حالات کے مطابق احتجاجی حکمت عملی بنائیں گی۔
ٹی ٹی اے پی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ احتجاجی تحریک کا پہلا مرحلہ 31 جولائی کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس سے شروع ہوگا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب عمران خان کے بیٹے، سلیمان اور قاسم، امریکا میں سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ پاکستان واپسی سے قبل بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ اپنے والد کی رہائی کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی ان ملاقاتوں کا مقصد تحریک کے عالمی پہلو کو اجاگر کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنا ہے۔



