عدالت کا بڑا فیصلہ: 9 مئی کیس میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر سمیت 70 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا
اپوزیشن لیڈر کا عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

سرگودھا (ویب ڈیسک): انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، صدر سینٹرل پنجاب احمد چٹھہ اور سیکریٹری جنرل بلال اعجاز سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 70 کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
یہ سزا مقدمہ نمبر 72/2023 کے تحت سنائی گئی، جو میاں والی کے علاقے موسیٰ خیل کے تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ملزمان پر توڑ پھوڑ، املاک کو آگ لگانے، ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ملک احمد خان بھچر کی ممکنہ نااہلی اور ڈی سیٹ ہونے کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے دفتر سمیت کئی سرکاری، فوجی اور نجی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ ان واقعات میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق 9 مئی کے پُرتشدد واقعات میں ملک بھر سے 1900 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان شامل تھے۔
اپوزیشن لیڈر کا عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان
عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا اور عدالت نے آئین و قانون سے ہٹ کر فیصلہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سزا سنائی گئی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں حکومتی دباؤ میں آچکی ہیں۔
ملک احمد بھچر نے کہا کہ نو مئی کے مقدمات میں ہمیں پہلے ہی اس طرح کے فیصلوں کی توقع تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، تاہم اس وقت میری نااہلی سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگ



