امریکی کمپنی کی روبوٹ کتے ٹہلانے کی ملازمت،20 ڈالر فی گھنٹہ معاوضے کی پیشکش

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک انوکھا تجربہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک ٹیک کمپنی نے روبوٹ کتوں کو سڑکوں پر ٹہلانے اور ڈیٹا جمع کرنے کے لیے انسانوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی شہر سان فرانسسکو کی کمپنی ’ڈائمینشنل‘نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی جاب لسٹنگ میں بتایا کہ چہل قدمی کروانے والے کو روزانہ چار سے چھ گھنٹے کمپیوٹر دماغ والے روبوٹک کتوں کو شہر کے عوامی مقامات پر ٹہلانا ہوگا۔ کمپنی نے اس کےلیے 20 ڈالر فی گھنٹہ دینے کی پیشکش بھی کی ہے جو تقریباً 5 ہزار 533 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 33 پاؤنڈ (تقریباً 15 کلوگرام) وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ اگر کوئی روبوٹ کتا راستے میں خراب ہو جائے تو اسے اٹھا کر ڈاگ پیچ کے علاقے میں قائم کمپنی کے دفتر تک واپس لایا جا سکے۔
کمپنی کے بانی اسٹیش پومچٹر کے مطابق ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا کہ اے آئی ایجنٹس فی الحال روبوٹک ہارڈویئر کو مکمل کنٹرول کرنے میں اتنے مہارت نہیں رکھتے، جس کے باعث روبوٹکس ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے انسانوں کی مدد لازمی ہے۔
کمپنی نے یہ چار ٹانگوں والے روبوٹک کتے چینی کمپنی ’یونیٹری‘ سے 2,000 ڈالر فی روبوٹ کے حساب سے خریدے ہیں۔



