وکلاء کی مسلسل تربیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات نظامِ انصاف کی مضبوطی کے لیے اہم ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ وکلاء کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اعلیٰ اخلاقی معیارات کی پاسداری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 51 وکلاء پر مشتمل وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔ وفد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مسلسل قانونی تعلیم کے تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے آیا تھا۔

بلوچستان بار کونسل نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز سے 51 وکلاء کو تربیتی پروگرام کے لیے نامزد کیا تھا۔ وفد میں کوئٹہ، تربت، خضدار، پشین، ژوب، چمن، قلات، سبی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے وکلاء شامل تھے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وکلاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ وکلاء مسلسل علم حاصل کریں، اپنی پیشہ ورانہ مہارت بہتر بنائیں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مقدم رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تربیتی پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے علم کو مؤثر قانونی پریکٹس میں بروئے کار لایا جائے۔ تربیت حاصل کرنے والے وکلاء فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور پاکستان کی عدلیہ کے سفیر ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنے علم اور تجربے کو دوسرے وکلاء تک بھی منتقل کریں۔

چیف جسٹس نے وفد کو ملک بھر میں عدالتی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انصاف تک رسائی ترقیاتی فنڈ کے تحت عدالتی کمپلیکسز اور بار رومز میں بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سہولیات میں سولر سسٹم، انٹرنیٹ سے منسلک ای لائبریریاں اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی شامل ہے، جبکہ خواتین کے لیے مخصوص سہولیات کی فراہمی بھی اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں، تاہم تکنیکی مسائل کے باعث 6 عدالتی کمپلیکسز میں کام باقی ہے۔ انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ دستیاب جدید سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے آن لائن تربیتی پروگرامز میں بھی حصہ لیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے وکلاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ مشکل حالات میں بھی عدالتوں کا فعال رہنا اور انصاف کی فراہمی جاری رکھنا عدالتی اداروں کی مضبوطی کی علامت ہے۔

انہوں نے قانون کی حکمرانی کے لیے عدالتی افسران اور وکلاء کی ثابت قدمی اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نظامِ انصاف کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل تربیت، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔

مزید خبریں

Back to top button