ٹرمپ کی مخالفت پر ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کا منصوبہ منسوخ، آئندہ ہفتوں میں دوبارہ کارروائی کا امکان

لندن (ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خلاف کئی روز تک جاری رہنے والی بڑے پیمانے کی بمباری کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باعث مبینہ طور پر یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ممکنہ حملوں کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ مجوزہ کارروائی میں ایران کی جوہری تنصیبات، حکومتی اہداف، بجلی گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ فوجی مہم کی شدت فروری میں شروع ہونے والی مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔
اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ تنازع دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مجوزہ آپریشن میں امریکی فوج نے براہِ راست حصہ لینا تھا یا اسرائیل کو صرف امریکی حمایت حاصل ہونا تھی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا آئندہ ہفتوں میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں کر سکتے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ تاہم، ان ملاقاتوں میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق کیا بات چیت ہوئی، اس بارے میں رپورٹ میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔



