تھرپارکر میں منشیات کے خلاف تحریک تیز، بڑے ڈیلر محفوظ، ڈیپلو میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی\جانوڈاٹ پی کے) تھرپارکر میں منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، جبکہ ڈیپلو میں منشیات کے خاتمے اور مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے پر اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ ضلع تھرپارکر میں منشیات فروشی اور بعض تھانوں میں مبینہ تشدد کے الزامات کے معاملے پر بلاول ہاؤس کے ترجمان اور رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد منشیات کے خلاف بحث اور مطالبات میں تیزی آگئی ہے۔ اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آرہا ہے، جبکہ منشیات کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث بڑے ڈیلروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کی سپلائی کے الزام میں بعض افراد کی گرفتاریوں کے باوجود اصل نیٹ ورک اور بڑے مبینہ ڈیلروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ خصوصاً آئس جیسے خطرناک نشے کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب، ڈیپلو میں ایم پی اے ارباب لطف اللہ کی جانب سے منشیات کے معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد ارباب محمد عالم نے اپنے بنگلے پر اہم اجلاس طلب کیا، جس میں تاجر ایسوسی ایشن، شہری اتحاد، پولیس افسران، وکلا، ڈاکٹرز اور دیگر شہریوں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارباب محمد عالم نے واضح کیا کہ ڈیپلو میں کسی کو بھی منشیات کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شرکاء نے منشیات کے خاتمے، نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے محفوظ رکھنے اور متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منشیات کے خلاف کوششوں کو مؤثر بنایا جائے اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کرکے معاشرے کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں

Back to top button