میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر 24 گھنٹوں میں عمل درآمد کیا جائے، جبران ناصر

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) میر رضا کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کیس کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ میر رضا کا قتل ہوا، لہٰذا اب خودکشی کا مؤقف ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس مزید سبکی سے بچنے کے لیے واقعے کے اصل حقائق سامنے لائے۔
جبران ناصر کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی تفصیلی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، تاہم ابتدائی طور پر سامنے آنے والی سفارشات اور نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں مختلف فریقوں کا انفرادی کردار رہا ہے، لیکن رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عوام کا پولیس پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔
وکیل نے کہا کہ میر رضا کیس کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کے بقول، جب تک واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش نہیں ہوتی، ذمہ داروں کی نشاندہی اور اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ چاہتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر جے آئی ٹی تشکیل دے اور ڈی آئی جی ویسٹ کو اس کا سربراہ بنانے کی سفارش پر بھی غور کیا جائے۔ جبران ناصر کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے ابتدائی 10 روز کی تحقیقات میں مبینہ طور پر ملوث افسران کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے انکوائری کرانے کو ضروری قرار دیا ہے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تحقیقات سے ممکنہ طور پر ملزمان تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اہلِ خانہ کو حقیقی اطمینان اسی وقت حاصل ہوگا جب قتل میں ملوث افراد کو سامنے لایا جائے گا اور واقعے کے تمام حقائق واضح ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایف آئی اے انکوائری شروع کرنے اور جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کے آغاز اور جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن ایک ہی روز میں جاری کیا جا سکتا ہے، اس لیے حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر 24 گھنٹوں کے اندر عمل درآمد کرنا چاہیے تاکہ میر رضا کیس کی تحقیقات آگے بڑھ سکیں اور اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔



