کمرشلائزیشن فیس تنازع: لاہور ہائیکورٹ نے میونسپل کارپوریشن ملتان کا حکم کالعدم قرار دے دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے کمرشلائزیشن فیس کے تنازع میں میونسپل کارپوریشن ملتان کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالی معاملات میں فریقین کے حقوق کا تعین تنازع پیدا ہونے کے وقت نافذ قانون اور مقررہ نرخوں کے مطابق کیا جائے گا، بعد میں نافذ ہونے والی پالیسی کا ماضی سے اطلاق کرکے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس جواد حسن نے میاں عباس احمد کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان کا 11 مئی 2026ء کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے 8 دسمبر 2005ء کو تقریباً چھ مرلے کی جائیداد کا کمرشل سائٹ پلان منظور کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔ متعلقہ حکام نے عمارت کی فیس کی مد میں 42 ہزار 470 روپے جبکہ پراسیسنگ فیس کی مد میں 12 ہزار روپے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میونسپل حکام نے مقررہ مدت میں سائٹ پلان کی منظوری سے متعلق فیصلہ نہیں کیا اور معاملہ کمرشلائزیشن کمیٹی کے پاس زیر التوا رہا۔ بعد ازاں درخواست گزار نے عمارت تعمیر کرلی، تاہم کمرشلائزیشن کا تنازع برقرار رہا۔ سال 2022ء میں دوسری منزل کی تعمیر کے لیے درخواست دینے کے بعد بھی معاملہ مختلف فورمز پر زیر سماعت رہا۔
فیصلے کے مطابق چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان نے 11 مئی 2026ء کو درخواست مسترد کرتے ہوئے جائیداد پر مالی سال 2025-26ء کے قواعد کے تحت کمرشلائزیشن فیس وصول کرنے کی ہدایت کی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ افسر نے درخواست مسترد کرتے وقت نہ تو فیصلے کی ٹھوس وجوہات بیان کیں اور نہ ہی متعلقہ قانونی دفعات اور قواعد کی وضاحت کی۔ وجوہات کے بغیر جاری کیا گیا انتظامی حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری حکام اور عوامی عہدے داروں پر لازم ہے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلے کریں اور اپنے احکامات میں واضح وجوہات بیان کریں۔ انتظامی اور عدالتی فیصلوں میں متعلقہ حقائق، قابل اطلاق قوانین اور عدالتی نظائر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مالی معاملات میں فریقین کے حقوق کا تعین اس وقت نافذ قانون کے مطابق ہونا چاہیے جب متعلقہ قانونی حق یا تنازع پیدا ہوا ہو۔ بعد میں نافذ ہونے والی پالیسی کا سابقہ معاملات پر اطلاق کرکے اضافی مالی بوجھ ڈالنا قانونی تقاضے پورے کیے بغیر جائز نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے ان قانونی نکات کی روشنی میں میاں عباس احمد کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن ملتان کا متنازع حکم کالعدم قرار دے دیا۔



