عظمیٰ بخاری نے معین ریاض قریشی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔ لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے کیس کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری نے ڈیفیمیشن ایکٹ کے تحت معین ریاض قریشی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معین قریشی کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔

ٹربیونل کے مطابق معین ریاض قریشی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹی وی پروگرام میں متعلقہ باتیں کی تھیں، تاہم وہ اپنے الزامات کے حق میں ایسے شواہد پیش نہیں کر سکے جن سے ان کے دعووں کی تصدیق ہوتی۔ ٹربیونل کے ریمارکس کے مطابق معین قریشی کے وکلا بھی عظمیٰ بخاری کے دعوے کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

مقدمے میں عظمیٰ بخاری کی جانب سے ان کے وکیل علی بخاری نے دلائل پیش کیے۔

معین ریاض قریشی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے موقع پر عظمیٰ بخاری نے 150 سے 200 معاوضہ لینے والے افراد کو اسمبلی میں داخل کروایا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے سوالات کرنے والے صحافی عظمیٰ بخاری کے تنخواہ دار ملازم تھے۔

عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش ہے۔

لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے مقدمے میں مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے، جبکہ کیس کے تمام قانونی نکات اور فیصلے کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں سامنے آئیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button