موجودہ حکومت کے کیسز کھلے ہوئے ہیں، متعلقہ ارکان کو بھی معلوم ہے،چیئرمین نیب

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت سے متعلق کیسز بھی زیرِ کارروائی ہیں اور متعلقہ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو معلوم ہے کہ کن افراد کے خلاف کیسز کھلے ہوئے ہیں، تاہم فی الحال میڈیا پر ان کی تشہیر نہیں کی جا رہی۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کے کیسز کب کھولے جائیں گے، حالانکہ یہ کیسز پہلے ہی کھلے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، وہ اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے کہ نظام بیٹھ چکا ہے، بلکہ نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

منی لانڈرنگ کے مقدمات پر گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ جمہوریت کے حامی ہونے کا دعویٰ کرنے والے بعض ممالک کا اپنا کردار بھی قابلِ سوال ہے۔ ان کے مطابق، منی لانڈرنگ کے مقدمات میں ان ممالک سے رابطہ کیا جاتا ہے، لیکن وہاں سے مطلوبہ جواب نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے اور بعض نے منی لانڈرنگ کے لیے مزید گنجائش پیدا کر رکھی ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ گلف وار کے باعث بیرونِ ملک پیسہ منتقل ہونے کا سلسلہ رک گیا ہے اور اب یہ رقم واپس آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک تعلیم دلا رہے ہیں، لیکن پاکستان میں ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے بیرونی ممالک سے معلومات اور تعاون حاصل کرنے میں مشکلات کا بھی ذکر کیا۔

ریکوریوں کے حوالے سے چیئرمین نیب نے دعویٰ کیا کہ کسی کی تضحیک کیے بغیر اس سے پوچھ گچھ کی جائے تو وہ لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے وصول کی جانے والی رقوم کی مالیت ملک کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے اور ان کی ریکوریوں میں مبالغہ آرائی شامل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کا نام سامنے لانے سے پہلے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ متعلقہ شخص بعد میں عدالت سے بری ہو جائے۔ ان کے بقول، احتساب کے عمل میں کسی کی پگڑی اچھالنے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button