ایران کی سعودی عرب کو بڑی پیشکش، یمن تنازع ختم کرانے کے لیے ہر ممکن مدد دینے کا اعلان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے، مذاکرات کے آغاز اور سیاسی حل کے حصول کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔

ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی حالیہ کشیدگی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں، جبکہ یمن میں طویل تعطل نے بھی ثابت کیا ہے کہ پائیدار امن کے لیے سیاسی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی جزیرہ نمائے عرب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان دشمنی جاری نہیں رہنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں جانی نقصان اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ 11 اکتوبر کو ایک اور حملے کی بھی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات کے بعد سعودی اتحادی افواج کی جوابی کارروائیوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرے۔ تاہم ایران کی جانب سے مدد کی پیشکش کو کسی باقاعدہ معاہدے یا تنازع کے حل میں پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، جب تک اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہ آئیں۔

مزید خبریں

Back to top button