کیپٹن (ر) صفدر نے آئینی ترامیم پر سوالات اٹھادیئے،ججوں کو بے اختیار نہ کرنے کا مطالبہ!

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ ججوں کو بے اختیار نہیں ہونا چاہیے، جبکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ججوں کی تعلیمی اسناد سے متعلق تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2021 میں امجد سے متعلق ڈگری کے معاملے کو چیلنج کیا تھا۔ ان کے مطابق بنیادی مطالبہ متعلقہ ڈگری کی تصدیق اور معاملے کو شفاف انداز میں حل کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوڈیشل کمیشن کو تین صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
کیپٹن (ر) صفدر نے سوال اٹھایا کہ ڈگری کی تصدیق کس طریقہ کار کے تحت کی گئی اور متعلقہ ریکارڈ سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کے بجائے ایک شہری کی جانب سے اٹھایا گیا سوال ہے، جبکہ ججوں کی تقرری اور اسناد کی تصدیق کے معاملات میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈگری کا معاملہ شفاف طریقے سے حل ہوجائے تو وہ متعلقہ فریق کو مٹھائی کھلانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے استعفے، بلا مقابلہ انتخاب اور مینار پاکستان پر قوم سے معافی مانگنے سے متعلق اپنے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے حوالے سے کیپٹن (ر) صفدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سیاسی اور قانونی تشخص ایک بڑے تنازع کی زد میں آیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کو باہمی بات چیت، قانونی طریقہ کار اور شفاف تصدیق کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر بات کرتے تو پیش رفت کی گنجائش پیدا ہوسکتی تھی۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق سوال پر لیگی رہنما نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہوجائیں کہ گورنر راج ناگزیر ہو تو آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی قیادت کو بھی عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے پولیس اور انتظامیہ میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق کئی دہائیوں سے موجود مسائل محض 180 دن میں مکمل طور پر حل نہیں کیے جاسکتے، اس لیے تمام اداروں کو مل کر طویل المدتی اقدامات کرنا ہوں گے۔



