ایلون مسک نے یوکرینی فوج کے لیے اسٹارلنک پابندیوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیا

نیویارک (ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک کے فوجی نظام پر رفتار یا استعمال کی پابندیاں اسپیس ایکس نے اپنی مرضی سے عائد نہیں کیں، بلکہ ایسے فیصلے امریکی حکومت اور صدارتی سطح پر کیے جاتے ہیں۔
ایلون مسک کے مطابق اسٹار شیلڈ نامی فوجی مواصلاتی نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے، اس لیے اس کے استعمال یا رفتار کو محدود کرنے کا اختیار امریکی فوج اور بالآخر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرینی فوج نے شکایت کی ہے کہ اسٹارلنک ٹرمینلز پر اچانک عائد ہونے والی پابندیوں سے بعض ڈرون آپریشنز اور فضائی دفاعی مشنز متاثر ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ٹرمینلز میں تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر انٹرنیٹ کنکشن متاثر ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یوکرین پر روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ یوکرینی حکام کو خدشہ ہے کہ اسٹارلنک کی پابندیاں ملک کی دفاعی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس بات کی واضح تصدیق نہیں کی گئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر اسٹارلنک کی رفتار محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعض امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں میں براہِ راست ملوث نہیں تھی۔
اس صورتحال میں اسٹارلنک اور اسٹار شیلڈ کے کنٹرول، فوجی مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور یوکرین کی دفاعی ضروریات سے متعلق سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔



