بھارت میں مسلم آبادی کی پانی کی سپلائی بند ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ پہنچ گیا

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقامی رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ میونسپل حکام نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی فراہمی بند کر دی، تاہم قریبی ہندو بستی میں پانی کی سپلائی جاری ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث شہری تقریباً ایک کلومیٹر دور سے آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر انتخابی انتقام کے تحت مسلم آبادی کو بنیادی سہولت سے محروم رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے والی معلومات سے نہیں ہوتی۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے مقامی حکام، حکومت اور ہائی کورٹ سے شنوائی نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے اور اسے محض انتظامی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سمیر الاسلام نے بی جے پی حکومت کے مبینہ اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری سے بھی ایک بیان منسوب کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ انہیں ووٹ نہ دینے والوں کے کام نہیں کیے جائیں گے اور آئندہ پانچ برس تک ان کا حساب کتاب جاری رہے گا۔
کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی کے مطابق ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف سیاست میں شدت آئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سرکاری مشکلات اور انتقامی کارروائیوں کے خدشات کے باعث مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔
رپورٹ میں اس معاملے کو بنیادی انسانی حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی فراہمی میں امتیاز کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔



