پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا ریگولیٹری فریم ورک آخری مراحل میں داخل، شیزا فاطمہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد اسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو سازگار اور آسان کاروباری ماحول فراہم کرے گی تاکہ ملک میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو مزید وسعت دی جا سکے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔ جی ایس ایم اے کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے کے حوالے سے دنیا میں تیز ترین پیش رفت کی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز بچھائی گئی ہیں، جبکہ بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے متبادل راستوں اور نئی کیبل روٹس پر بھی کام جاری ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ملک بھر میں 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے۔ پاکستان میں فائبر براڈبینڈ کی ہوم پاسز کی تعداد 2024 میں 30 لاکھ سے کم تھی، جو اب بڑھ کر 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح بھی 15 فیصد سے کم سے بڑھ کر 19 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح کم از کم 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق مارچ 2026 میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان میں پہلی مرتبہ فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، جبکہ فائیو جی سروسز کی مؤثر فراہمی کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے سی وی اے ایس لائسنسز کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں مقامی افراد کو انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر بنانے کے لیے بھی نئے کاروباری ماڈل پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہر پندرہ روز بعد قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی حاصل کر چکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو اس سہولت سے مستفید کرنے کے لیے اسمارٹ فون کی شرط بھی عائد نہیں کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب 20 کروڑ افراد اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے کی تقریباً 48 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اب محض سہولت نہیں بلکہ تعلیم، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button