پاکستان کا اسرائیل سے مقبوضہ شامی علاقے خالی کرنے کا مطالبہ، 1974 کے معاہدے کے احترام پر زور

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) پاکستان نے شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے تمام مقبوضہ شامی علاقوں کو خالی کرنے اور 1974ء کے معاہدے کا مکمل احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

عثمان جدون نے کہا کہ مقبوضہ شامی علاقہ گولان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً قرارداد 338 اور 497 کے تحت شام کا حصہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور 1974ء کے معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

شام کی وحدت اور سیاسی انتقالِ اقتدار کی حمایت

پاکستانی مندوب نے شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار، قومی مفاہمت اور معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے جامع سیاسی عمل آگے بڑھانے اور شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سویدا سمیت شام کے مختلف علاقوں میں جاری تنازعات کو مذاکرات اور پُرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

شام کی بحالی کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے

عثمان جدون نے کہا کہ شام کی تعمیرِ نو، معیشت کی بحالی اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی برادری کا مسلسل تعاون اور انسانی امداد اہم ہے۔ انہوں نے پابندیوں میں نرمی، سرمایہ کاری میں اضافے اور علاقائی و عالمی اقتصادی شراکت داری کو شام کی بحالی کے لیے معاون قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں، بشمول غیر ملکی جنگجوؤں، کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے اور شامی سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی تشویش

شام میں اسرائیلی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ خبر کے مطابق گزشتہ ماہ شام کی صورتحال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شہریوں کو حراست میں لینے سمیت بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اس سے قبل اگست میں شمال مغربی شام کے ایک فوجی اڈے پر اسرائیل کے آٹھ فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام میں مزید علاقوں پر قبضہ کیا اور شامی فوج کے بھاری ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کے سامنے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ شام میں امن، استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button