نیتن یاہو کا دستاویزی فلم’’نازا‘‘میں انٹرویو دینے والے اسرائیلی اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

لندن(جانوڈاٹ پی کے)غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق دستاویزی فلم ’نازا‘ کو اسرائیل میں ملنے والی پذیرائی کے بعد وزیرِاعظم نیتن یاہو نے فلم میں شناخت ظاہر کیے بغیر انٹرویو دینے والے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسرائیلی فوج کے سربراہ، داخلی خفیہ ادارے شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ فلم میں شامل اہلکاروں کے معاملے کی تحقیقات شروع کریں۔

رپورٹ کے مطابق دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ ان اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیے گئے۔ ان کے بقول، ان نظاموں کے ذریعے مشتبہ اہداف کی نشاندہی کرتے وقت شہریوں کی ممکنہ ہلاکتوں کو بھی متوقع نتائج میں شمار کیا جاتا تھا۔

نیتن یاہو نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف خفیہ معلومات افشا کرنے، مبینہ مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سیکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت کارروائی کی جائے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے فلم کو گمراہ کن اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر اسرائیلی ریاست اور فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دستاویزی فلم میں عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ فوجی اہداف کے تعین اور حملوں کی منظوری کا فیصلہ انسانی اہلکار کرتے ہیں اور یہ کارروائیاں مقررہ ضوابط کے تحت انجام دی جاتی ہیں۔

فلم ’نازا‘ اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریچل شور کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے۔ اسے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ فلم کی نمائش کے بعد حاضرین نے تقریباً 25 منٹ تک تالیاں بجائیں۔

مزید خبریں

Back to top button