امریکی تحقیقاتی ادارے کا مسلمان رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر چھاپہ،امیگریشن دستاویزات سے متعلق تحقیقات

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی مسلمان رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے گھر کی تلاشی لی گئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق پیر کی صبح واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقے میں امریکی ریاست منی سوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی صومالی نژاد مسلمان رکن کانگریس کے خلاف امیگریشن سے متعلق کاغذات کے حوالے سے دھوکا دہی کی فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ کاغذات ان کے والد نے اس وقت مکمل کیے تھے جب وہ بچی تھیں اور ان کے والد اب وفات پاچکے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے فاکس نیوزکو بتایا کہ فیڈرل ایجنٹس نے محکمہ انصاف سے حاصل کردہ اور عدالت کی جانب سے منظور شدہ سرچ وارنٹ کے تحت تلاشی لی، یہ کارروائی جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔
خیال رہےکہ حجاب پہننے والی الہان عمر 36 سال کی عمر میں پہلی بار 2018 میں کانگریس کی رکن منتخب ہوئیں تھیں، اس وقت وہ امریکی تاریخ کی پہلی دو مسلمان خواتین میں سے ایک تھیں جو امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
الہان عمر امریکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نسلی تعصب اور اسلاموفوبیا سے لےکر غزہ اور مقبوضہ کشمیرکے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وہ بارہا سیاسی حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ ٹرمپ صومالی نژاد امریکی برادری کو منی سوٹا کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔فروری میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ الہان عمر کو ذہنی صحت کے ادارے میں داخل کرایا جانا چاہیے اور انہیں وہاں واپس بھیج دینا چاہیے جہاں سے وہ آئی ہیں۔



