لائبہ خودکشی کیس میں اہم پیش رفت، مرکزی ملزم نعمان کے گروہ کی دو خواتین بھی گرفتار

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے لائبہ خودکشی کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم نعمان کی نشاندہی پر مبینہ گروہ میں شامل دو خواتین کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نعمان کو اس سے قبل ایچ 13 سے گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ تینوں ملزمان سے تھانہ رمنا میں تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق لائبہ نے یونیورسٹی میں گولڈ میڈل کے ساتھ تعلیم مکمل کی تھی۔ الزام ہے کہ اسے بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر فراڈ کا نشانہ بنایا گیا۔ لائبہ کی خودکشی کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔
ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نعمان گرفتاری سے بچنے کے لیے ایچ 13 میں کرائے کا کمرہ لے کر روپوش تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزم مبینہ طور پر خوفزدہ ہے اور دورانِ تفتیش مختلف جرائم سے متعلق متعدد انکشافات کر چکا ہے، تاہم پولیس حکام نے فی الحال ان تفصیلات کو منظرعام پر لانے سے گریز کیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون سے مبینہ آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ مزید تحقیقات کے دوران ان شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نعمان ماضی میں کوئٹہ کے محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازم تھا، جہاں مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہونے کے باعث اسے معطل کر دیا گیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان اور اس کی نشاندہی پر گرفتار ہونے والی دونوں خواتین سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔



