گورنر راج کی بازگشت، پی ٹی آئی کور کمیٹی کا رات گئے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس

ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبروں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے صوبے میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہیں کرسکتی۔ ان کے بقول ایسا فیصلہ وفاقی حکومت کی سب سے بڑی حماقت ہوگا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ایمرجنسی کسی صورت مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی اس سے موجودہ سیاسی بحران ختم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، تاکہ مسائل کے حل کی راہ نکل سکے۔
پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کو مولانا فضل الرحمان کی ثالثی سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ مذاکرات کے ذریعے موجودہ کشیدگی کم کی جاسکتی ہے۔
صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی سرکاری فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی مطالبات پر بات چیت پر زور دیا ہے۔



