کچھ صحافی5بار سے بھی زیادہ حج کرچکے، قائمہ کمیٹی میں بڑاانکشاف

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی حج کی تبدیلی، حج پالیسی، میڈیا نمائندوں کو حج پر بھجوانے، حج فنڈ اور زیارات پالیسی سمیت مختلف اہم معاملات پر سوالات اٹھا دیے گئے۔
کنوینئر اعجاز الحق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی ارکان نعیمہ کشور، شگفتہ جمانی اور احمد سلیم صدیقی سمیت سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا اور وزارت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں حج پالیسی 2027 سے 2030 تک کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران ڈی جی حج کی تبدیلی کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آیا۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ ڈی جی حج کو اب تک کیوں نہیں ہٹایا جا رہا۔ کمیٹی نے ڈی جی حج سے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ لینے سے بھی انکار کردیا۔
سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے بتایا کہ نئے ڈی جی حج کی تعیناتی کا معاملہ زیر غور ہے، تاہم کسی شخصیت کی تبدیلی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
اجلاس میں حج کے دوران مختلف افراد کو مبینہ طور پر نوازنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ شگفتہ جمانی نے استفسار کیا کہ حج میں لوگوں کو کس طرح نوازا جاتا ہے، جس پر سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ کسی کو نہیں نوازا جاتا، تاہم اگر اس حوالے سے کوئی اطلاعات موجود ہیں تو وزارت کو آگاہ کیا جائے، متعلقہ معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔
شگفتہ جمانی نے تجویز دی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو حج پر بھجوایا جائے تاکہ وہ خود حج انتظامات اور وزارت مذہبی امور کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔ سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ وزارت اطلاعات کے ذریعے 5 میڈیا پرسنز کو حج پر بھجوایا جاتا ہے۔
اس پر شگفتہ جمانی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی امور کی کوریج کرنے والے صحافی ہی وزارت کی کارکردگی اور حج انتظامات کے اصل حقائق سامنے لا سکتے ہیں۔
سیکرٹری مذہبی امور نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی، جن میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ کون سا میڈیا نمائندہ کب حج پر گیا۔
کنوینئر کمیٹی اعجاز الحق نے دعویٰ کیا کہ بعض میڈیا پرسنز 5 مرتبہ سے بھی زیادہ حج پر جاچکے ہیں۔ انہوں نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ والا معاملہ چل رہا ہے۔
اجلاس میں سابق صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں کم آمدن والے افراد کے لیے قائم کیے گئے حج فنڈ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی کہ حج فنڈ سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔
بعد ازاں زیارات پالیسی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ شگفتہ جمانی نے حج پالیسی کی تیاری کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ حج پالیسی کس طرح بنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حج پالیسی کو زیارات پالیسی میں کاپی پیسٹ کردیا گیا ہے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے نشاندہی کی کہ حج اور زیارات دو الگ معاملات ہیں، اس لیے دونوں کو ایک ہی انداز میں نہیں دیکھا جاسکتا۔
سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے کمیٹی کو بتایا کہ عمرہ اور زیارات کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد میں سے 15 سے 20 فیصد واپس نہیں آتے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ ایران، عراق اور سعودی عرب سمیت میزبان ممالک کو درپیش ہے، جبکہ بعض افراد ان ممالک سے ترکیہ اور یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔



