لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، نابالغ بچوں کے نان نفقہ کیلئے پنشن منسلک کی جاسکتی ہے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیملی کورٹ کی جانب سے جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسر کی پنشن بھی منسلک کی جاسکتی ہے۔

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس اور جسٹس ملک وقار حیدر اعوان پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے محمد لطیف کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ تحریری فیصلہ جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے تحریر کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نابالغ بچوں کا نان نفقہ عام قرض یا مالی دعوے کی نوعیت نہیں رکھتا بلکہ والد پر عائد قانونی اور خاندانی ذمہ داری ہے۔ اس لیے پنشن کو بعض واجبات کی وصولی سے تحفظ دینے والی قانونی دفعات کو نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر اس انداز میں لاگو نہیں کیا جاسکتا کہ ڈگری پر عملدرآمد ہی ناممکن ہوجائے۔

کیس کے مطابق درخواست گزار کی سابق اہلیہ نے نکاح کے خاتمے اور جہیز کے سامان کی واپسی جبکہ نابالغ بچوں نے نان نفقہ کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ دونوں مقدمات کو یکجا کرنے کے بعد فیملی کورٹ نے 22 جنوری 2014 کو فیصلہ سناتے ہوئے والد کو دونوں بچوں کے لیے فی کس ماہانہ 3 ہزار روپے نان نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافے کی بھی ہدایت کی گئی۔

فیملی کورٹ نے سونے کے زیورات کے علاوہ 2 لاکھ 48 ہزار 570 روپے مالیت کے جہیز کے سامان کی واپسی کی ڈگری بھی جاری کی۔ بعد ازاں فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد ہونے پر ڈگری حتمی شکل اختیار کر گئی۔

عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ڈگری ہولڈرز کی جانب سے رجوع کیا گیا تو فیملی کورٹ نے درخواست گزار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور اس کے پنشن اکاؤنٹ میں موجود رقم کو بھی منسلک کرنے کی کارروائی شروع کردی۔ درخواست گزار نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

کیس میں بنیادی قانونی سوال یہ تھا کہ کیا ریٹائرڈ فوجی افسر کی پنشن کو نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے منسلک کیا جاسکتا ہے، جبکہ پنشن ایکٹ 1871، پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اور ضابطہ دیوانی کے تحت پنشن اور بعض فوجی واجبات کو اٹیچمنٹ سے تحفظ حاصل ہے؟

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا سیکشن 13 فیملی کورٹ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے خصوصی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ رقم سے متعلق ڈگری کی صورت میں مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے پر قانون کے مطابق رقم کی وصولی کے مؤثر ذرائع اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ بچے کا نان نفقہ کسی شخص کو دیے گئے قرض یا ادھار رقم کی واپسی کا معاملہ نہیں بلکہ والد اور بچے کے رشتے سے پیدا ہونے والی قانونی ذمہ داری ہے۔ فیملی کورٹ کی ڈگری اس پہلے سے موجود ذمہ داری کو متعین کرکے اس پر عملدرآمد کا قانونی ذریعہ بنتی ہے۔

فیصلے میں اسلامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیت 233 کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے مطابق والد پر اپنی استطاعت کے مطابق اولاد کے کھانے اور لباس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ حاصل کرنے کا حق اور والد کی یہ ذمہ داری اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قانونی نظام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے حتمی قانونی اصول طے کرتے ہوئے کہا کہ پنشن ایکٹ 1871 کا سیکشن 11 نابالغ بچوں کے حق میں فیملی کورٹ کی حتمی نان نفقہ ڈگری پر اس طرح لاگو نہیں ہوتا کہ ڈگری پر عملدرآمد ہی ممکن نہ رہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف پنشنر ہونے کی بنیاد پر کوئی شخص نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری سے استثنیٰ حاصل نہیں کرسکتا۔

مزید خبریں

Back to top button