ایک کھوپڑی،دو دماغ؟فرقۂ ڈارونیہ کے ہاتھ ایک اور پھلجڑی لگ گئی

نہال معظم
آپ نے بندر کے ’’دو دماغ‘‘ ہونے کا قصہ ضرور سن رکھا ہوگا اور یہ بھی کہ ڈارون کے پیروکار انسان کو بندر کی ہی ارتقائی نسل مانتے ہیں، اگرچہ اس پر مذہبی، اخلاقی اور سائنسی اختلافات موجود ہیں۔ البتہ حال ہی میں سائنس نے ’’فرقۂ ڈارونیہ‘‘ کے ہاتھ ایسی پھلجڑی پکڑا دی ہے جس کی چنگاریاں، لگتا ہے، انسانیت کے دامن پر بندر کا نقش بنا کر چھوڑیں گی۔ نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی دماغ اپنی ابتدائی تشکیل کے مرحلے میں ایک ہی خلیاتی ماخذ سے نہیں بنتا بلکہ دو الگ خلیاتی ذرائع سے وجود میں آنا شروع ہوتا ہے۔ یوں جس دماغ کو انسان اپنی عقل، شعور اور فہم کا مرکز سمجھ کر فخر کرتا ہے، اس کی اپنی ابتدائی داستان بھی خاصی دلچسپ نکلی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دماغ کی یہ دو ماخذی تشکیل کروڑوں سال پرانے حیاتیاتی نظام سے جڑی ہوئی ہے اور انسانوں کے علاوہ بندروں، مرغیوں اور مچھلیوں سمیت دیگر جانوروں میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے۔ تو ہمارا دماغ ’’ایک ہے یا دو‘‘ ؟ آئیے، اس دلچسپ تحقیق کے نکات پر نظر ڈالتے ہیں۔
سائنس اور طب کی دنیا میں ایک عرصے سے انسانی دماغ کو ایک ہی عضو تصور کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ اس کے اندر مختلف حصے اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ انسانی دماغ بظاہر ایک ہی پیچیدہ عضو ہے، مگر جنینی زندگی کے ابتدائی مراحل میں اس کی تعمیر کا معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی حالیہ تحقیق نے اسی ابتدائی مرحلے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ دماغ کی تشکیل دو الگ خلیاتی ماخذ سے شروع ہوتی ہے۔ یہاں ’’دو حصوں‘‘ سے مراد دماغ کے معروف دائیں اور بائیں نصف کرّے ہرگز نہیں، بلکہ وہ دو الگ خلیاتی سلف ہیں جو بعد میں دماغ کے مختلف حصوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
دماغ کا اگلا اور درمیانی حصہ، جسے مجموعی طور پر پیش دماغ اور درمیانی دماغ سے جوڑا جاتا ہے، سوچنے، بولنے، جذبات، بصارت اور دیگر پیچیدہ ذہنی صلاحیتوں سے متعلق اہم کام انجام دیتا ہے، جبکہ پچھلا دماغ جسم کے کئی بنیادی اور زندگی کے لیے نہایت اہم افعال کو سنبھالتا ہے، جن میں سانس لینے، نیند، دل کی دھڑکن اور جسمانی حرکات کا نظم شامل ہے۔ یوں اسے سادہ لفظوں میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دماغ ایک ہی عمارت ہے، مگر اس کی ابتدائی تعمیر کا نقشہ دو الگ تعمیراتی ٹیموں نے سنبھال رکھا تھا۔
اس دریافت کی دلچسپی صرف اس بات میں نہیں کہ انسانی دماغ کیسے بنتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ یہ حیاتیاتی نظام کتنا قدیم ہے۔ محققین کے مطابق دماغ کے مختلف حصوں کی تشکیل میں دو الگ خلیاتی ماخذ کا یہ طریقہ کروڑوں سال پرانی ارتقائی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی مماثلت انسانوں کے علاوہ مختلف جانوروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ بندر، مرغی اور مچھلی جیسے جانوروں کے دماغ کی نشوونما میں بھی ایسے حیاتیاتی راستوں کے شواہد ملتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی ایسا انتظام نہیں جو انسان نے کل ہی ایجاد کیا ہو؛ قدرت نے کروڑوں برس پہلے ہی اس کا نقشہ تیار کر رکھا تھا۔
یہاں ایک بار پھر ’’دو دماغ‘‘ والی عام اصطلاح اور سائنسی حقیقت میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ نہ انسان کے دو دماغ ہیں اور نہ بندر کے۔ دونوں کے پاس ایک ہی دماغ ہوتا ہے، البتہ دماغ کے اندر بے شمار حصے، ساختیں اور خلیاتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ نئی تحقیق کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ابتدائی جنینی تشکیل دو الگ خلیاتی ذرائع سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی بات دو دماغوں کی نہیں بلکہ ایک دماغ کے دو ابتدائی خلیاتی ماخذ کی ہے۔ عام زبان میں شاید یہ فرق معمولی لگے، مگر حیاتیات اور طب کے لیے یہی فرق انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔
محققین نے اس راز کو سمجھنے کے لیے انسانی اسٹیم سیلز اور چوہوں پر تجربات کیے۔ مقصد یہ جاننا تھا کہ جنین کی ابتدائی نشوونما کے دوران دماغ کے مختلف حصے کس طرح وجود میں آتے ہیں اور ان کے پیچھے کون سے خلیاتی راستے کام کرتے ہیں۔ تجربات سے سامنے آیا کہ دماغ کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں دو مختلف قسم کے خلیاتی سلف اپنی مخصوص سمتوں میں آگے بڑھتے ہیں اور بعد میں دماغ کے الگ الگ حصوں کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔ اس عمل کو سمجھنے سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ دماغ کے مختلف حصے اپنی مخصوص ساخت، شناخت اور ذمہ داریاں کیسے حاصل کرتے ہیں۔
اب اس دریافت کی اصل اہمیت طبی میدان میں سامنے آتی ہے۔ دماغ اور اعصابی نظام سے متعلق بہت سی بیماریوں میں یہ جاننا انتہائی اہم ہوتا ہے کہ خلیات کب، کہاں اور کس طرح بنتے ہیں۔ اگر سائنس دان دماغ کی ابتدائی تشکیل کے ان راستوں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکیں تو مستقبل میں اعصابی بیماریوں کے اسباب جاننے، متاثرہ عصبی خلیات کی بحالی اور نئی ادویات یا علاج کے طریقے وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگرچہ ابھی اس تحقیق کو براہ راست کسی نئی دوا یا علاج کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن دماغ کی نشوونما کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی سمت میں یہ ایک اہم قدم ضرور ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ دماغ کی پیچیدہ ساخت کے باوجود اس کی تعمیر کا بنیادی منصوبہ زندگی کی انتہائی ابتدائی سطح پر شروع ہو جاتا ہے۔ ایک ننھے سے جنین میں ایسے خلیات اپنی اپنی سمت متعین کرتے ہیں جو مستقبل میں سوچ، احساس، حرکت، نیند، سانس اور جسم کے دوسرے اہم افعال سے وابستہ دماغی حصوں کی بنیاد بنیں گے۔ یعنی جس عضو کو ہم بعد میں اپنی شخصیت، یادداشت، عقل اور شعور کا مرکز سمجھتے ہیں، اس کی کہانی اس وقت شروع ہو جاتی ہے جب انسان ابھی دنیا میں آنے سے بہت دور ہوتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو انسانی دماغ آج بھی سائنس کے لیے ایک ایسی پہیلی ہے جس کا ہر نیا جواب کئی نئے سوالات پیدا کر دیتا ہے۔ ’’دو دماغ‘‘ کا مشہور قصہ اپنی جگہ محض ایک غلط فہمی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقی سائنسی حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ انسان کا دماغ ایک ہی ہے، بندر کا بھی ایک ہی دماغ ہے، لیکن انسانی دماغ کی ابتدائی تعمیر دو الگ خلیاتی ماخذ سے شروع ہوتی ہے اور یہ حیاتیاتی طریقہ کروڑوں سال پرانی ارتقائی تاریخ سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ سو ’’ ڈارونیوں‘‘ کے ہاتھ لگی پھلجڑی کو دو دماغوں کا شگوفہ سمجھنے کے بجائے اگر سائنسی نظر سے دیکھا جائے تو اصل حیرت یہ ہے کہ ایک ہی دماغ بنانے کے لیے قدرت نے ابتدا ہی سے کتنی پیچیدہ اور منظم حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔



