سعودی عرب میں مکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ریاض میں ہوگی، فیلڈ مارشل شرکت کرینگے

ریاض(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ہو رہا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور دفاعی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں مکہ معاہدے کے تحت جاری تعاون اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی شرکت علاقائی امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کے مسلسل کردار اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی اور پاکستانی عوام سمیت امت مسلمہ کی بھلائی کے لیے دعا کی۔ اسحاق ڈار نے جبلِ اُحد کا دورہ بھی کیا اور شہدائے اُحد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجلاس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترک وزیر دفاع یاشار گلر اور ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں حالیہ علاقائی پیش رفت کے ساتھ ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور پورے ملک میں ریاستی اختیار بحال کرنا ہے۔
رشاد العلیمی نے مسلح افواج، سکیورٹی فورسز اور دیگر فوجی دستوں کو اعلان کردہ منصوبے کے مطابق کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو حوثی ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرانے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
یمنی حکومت کا یہ اعلان گزشتہ ماہ حوثیوں کے اچانک حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں گروپ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنا کنٹرول مزید بڑھا لیا تھا۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں کشیدگی اور دفاعی تعاون کے حوالے سے مکہ معاہدے کے تحت ہونے والے ہنگامی اجلاس کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔



