سزائے موت دینے کے باوجود خاتون قیدی زندہ ، امریکی جیل کمشنر نے استعفیٰ دے دیا

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی ریاست ٹینیسی میں سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد کی کوشش ناکام ہونے کے بعد محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹریڈا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی کے مطابق فرینک اسٹریڈا رواں ماہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ گورنر نے اپنے بیان میں کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل صورتحال میں ریاست کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد 50 سالہ پائیک کی حالت تشویشناک ہے اور وہ بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں کولین سیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ عملدرآمد کے دوران انہیں پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم دونوں انجیکشن کے باوجود وہ زندہ رہیں۔
فرینک اسٹریڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ محکمہ اصلاح نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔
ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت پر عملدرآمد کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں ایک قیدی کو سزائے موت دینے کی کارروائی اس وقت روک دی گئی تھی جب طبی عملہ اس کے بازو میں رگ تلاش کرکے انجیکشن لگانے میں ناکام رہا تھا۔
دوسری جانب گورنر بل لی نے سزائے موت پر عملدرآمد کے مزید تمام معاملات سال کے اختتام تک روک دیے ہیں، جبکہ اس دوران کرسٹا پائیک کے معاملے میں ناکامی کا جائزہ لیا جائے گا۔
اگر مہلک انجیکشن کے ذریعے پائیک کی موت واقع ہوجاتی تو وہ دو صدیوں سے زائد عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔ امریکی سطح پر 1976 کے بعد سے اب تک 18 خواتین کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔



