ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف دہلی میں جین زی کا احتجاج، متعدد افراد گرفتار

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد نوجوانوں اور طلبہ نے بھی احتجاج شروع کردیا۔ نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں نوجوانوں اور طلبہ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا اور غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق نئی دہلی میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں اور طلبہ گروپس نے احتجاج میں شرکت کی، جبکہ مظاہرین نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ووٹر فہرستوں میں ہونے والی متنازع تبدیلیوں کے باعث بڑی تعداد میں شہری ووٹ کے حق سے محروم ہوئے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ’’ووٹ چور، کرسی چھوڑ‘‘ اور ’’گیانیش کمار، استعفیٰ دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 100 مظاہرین نے سکیورٹی بیریکیڈز ہٹانے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے زیرحراست افراد کی تعداد اور شناخت کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نہا بورا نے احتجاج کے دوران ووٹر فہرستوں سے شہریوں کے نام نکالے جانے اور احتجاج کی اجازت نہ دینے پر اعتراض کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال شروع کی گئی ملک گیر ووٹر تصدیقی مہم کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہل ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے۔ تاہم، ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں اور اس کے سیاسی اثرات سے متعلق مختلف فریقین کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button