حکومت آئی ایم ایف کا پہاڑہ پڑھنا بند کرے،پٹرولیم لیوی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے،حافظ نعیم

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے تاحال پیٹرولیم لیوی ختم کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر جماعت اسلامی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت نے مطالبات پر کان نہ دھرے تو ملتان سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کریں گے۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے، اس کا عالمی مارکیٹ کی لیوی سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت عام آدمی پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے شاہ خرچیاں اور اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم کرے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کی تجاویز پر عمل کرے اور آئی ایم ایف کا پہاڑہ پڑھنا بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 26 سے 30 ارب روپے ریلیف دینے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم عام آدمی کو حقیقی ریلیف نہیں مل رہا۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 135 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز شامل ہونے سے قیمت 389 روپے تک پہنچ گئی ہے، لیوی میں 85 روپے کمی کی جائے تو قیمتیں پرانی سطح پر آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف دستخطی مہم شروع کردی ہے، دو کروڑ سے زائد افراد کی حمایت حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ ملتان سے لانگ مارچ شروع کرکے جنوبی پنجاب، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے قافلے شامل کیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا، وزیراعظم کو اب عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
انہوں نے 11 ارب روپے کے طیارے کی خریداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح مریم نواز نے جہاز کے حوالے سے رسید دکھائی، اسی طرح حکومت طیارے کی خریداری کی اجازت آئی ایم ایف سے ملنے کے حوالے سے بھی ثبوت پیش کرے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس، بجلی کے نرخ، پالیسی ریٹ اور بینکنگ نظام پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے عوام کو ریلیف دیا جائے۔خیبرپختونخوا کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کو بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں، پرامن سیاسی احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے، معاملات اس حد تک نہیں جانے چاہئیں کہ صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے۔انہوں نے صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کرنے اور جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔



