ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر،6اکتوبر کو سماعت

 اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس پر تشدد اور پروٹوکول توڑنے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران وکلا ریاست علی آزاد اور زینب بھی عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نے پروٹوکول توڑنے اور پولیس پر تشدد کے مقدمے میں چالان کی نقول ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کو فراہم کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی، جس کے لیے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج ہے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ کوہسار میں درج احتجاج کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو 5 اکتوبر کو دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران شیریں مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو رات کے وقت عدالت کھول کر پیش کیا گیا۔ اس پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے وضاحت کی کہ عدالت رات کو کھولی نہیں گئی تھی بلکہ وہ پہلے سے اپنے کام میں مصروف تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ ریمانڈ کے لیے ملزمان کو پیش کیا جا رہا ہے، اس لیے وہ عدالت میں موجود رہے۔

مزید خبریں

Back to top button