سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں، قادر مگسی کا دوٹوک اعلان، عوامی رابطہ مہم تیز

ٹھٹھہ( جاويد لطيف ميمن )سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے اپنے بھائی غلام علی مگسی اور پارٹی رہنماؤں گلزار احمد سومرو، ڈاکٹر حمید میمن، ہوت خان گاڈاہی، خدابخش درس، محمد علی ابڑو، امتیاز سموں اور قادر چنا کے ہمراہ ٹھٹھہ کے قریب گاؤں گلشیر بروہی میں بروہی ہاؤس پہنچ کر بروہی برادری کی معزز شخصیات سے ملاقات کی۔
اس موقع پر معزز انجینئر حاجی خیر محمد بروہی کے فرزند سردار شاہد حسین بروہی اور سیٹھ نورالدین بروہی کے فرزند میر بالاچ بروہی کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی گئی اور انہیں اجرکیں پہنائی گئیں۔
تقریب میں سابق تعلقہ نائب ناظم انجینئر حاجی خیر محمد بروہی، ڈاکٹر عبدالواحد بروہی، سیٹھ نورالدین بروہی، سردار مہراللہ بروہی، حاجی رسول بروہی، حاجی الہڈنو بروہی، شاہد حسین بروہی، شہباز بروہی، جہانزیب مینگل بروہی، محمد ایوب ملاح، اکبر شورو، ایس ٹی پی رہنما سید جلال شاہ، ناتھو بروہی، عبدالحکیم بروہی، عثمان ہنگورو، لطیف بروہی سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔
اس موقع پر حاجی خیر محمد بروہی، ڈاکٹر عبدالواحد بروہی، حاجی الہڈنو بروہی، سردار شاہد بروہی، سردار مہراللہ بروہی، حاجی رسول بروہی اور دیگر نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں بھی اجرک کے تحائف پیش کیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ٹی پی سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے ملک کا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ یہاں کبھی بھی پارلیمنٹ کو بااختیار نہیں چھوڑا گیا۔ منتخب نمائندوں کے انتخاب کے راستے بند ہیں اور اپنی مرضی کے من پسند افراد کو اسمبلیوں میں منتخب کرا کے بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کی جاتی ہیں اور جب نظام نہیں چلتا تو لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ آج جہاز خریدے جا رہے ہیں اور افسران کے لیے لینڈ کروزر گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، جبکہ ہر ادارے میں کرپشن موجود ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ صوبوں اور مادرِ وطن کا کوئی قصور نہیں، لیکن بعض وزراء کے بیانات سے ملک میں مزید انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے وزیر کو کابینہ سے فارغ کرکے ان کی ذہنی کیفیت کا معائنہ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاشیں گرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس قسم کی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
ایس ٹی پی سربراہ نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، یہ بات طے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کے بعد وزیر کا رویہ تبدیل ہوگیا ہے اور وہ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی مقبول سیاسی قوتیں، جن میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی، اے این پی اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں شامل ہیں، سب صوبوں کی مزید تقسیم کے خلاف ہیں۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کشمیر میں احتجاجی دھرنا ختم نہیں ہوا، بلوچستان کی صورتحال بھی خراب ہے اور قومی ترانہ نہیں بجایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ممکنہ تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کی عوامی رابطہ مہم تیزی سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’سندھ میری ماں‘‘ مہم کے سلسلے میں ٹھٹھہ کے دورے کے دوران ضلع کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں عوام کی جانب سے پارٹی کا شاندار استقبال کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور اس مقصد کے لیے جو بھی قربانی دینا پڑی، اس سے دریغ نہیں کریں گے۔



