ایران امن کیلئے تیار، جارحیت کے خلاف ڈٹ جائیں گے، عباس عراقچی

تہران (ویب ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی اعلیٰ سطحی وفد نیویارک امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے آیا ہے، تاہم ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف ثابت قدم رہے گا، چاہے اس کے نتیجے میں تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ کے ساتھ ساتھ حقیقی سفارت کاری اور حالات میں مثبت پیش رفت کے لیے بھی تیار ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان رواں ہفتے بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم تنازع کے خاتمے کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی ٹی وی پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ صدر مسعود پزشکیان اور وہ نیویارک جنگ فروخت کرنے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لیے آئے تھے۔
عباس عراقچی کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق سات روزہ روڈ میپ مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے مزید مذاکرات ہوں گے۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا تھا کہ اگر امریکا ایران کی تجویز کردہ منصوبے سے اتفاق کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔



