اوپن اے آئی ایجنٹس کی اقوام متحدہ کے ڈیٹا پلیٹ فارم تک رسائی کی کوششوں کا انکشاف

نیو یارک (ویب ڈیسک) اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کی جانب سے اقوام متحدہ کے عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے 16 ہزار سے زائد درخواستیں بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ سرگرمی اپریل سے جون کے اختتام کے درمیان اقوام متحدہ کے تجارت و ترقی کے ادارے کے زیر انتظام عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم پر سامنے آئی۔ یہ رپورٹ مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے ٹرانسلوس سے حاصل کردہ ڈیٹا کے آزادانہ تجزیے پر مبنی ہے۔

تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو بظاہر عوامی طور پر دستیاب معلومات حاصل کرنے کا کام دیا گیا تھا، تاہم ویب سائٹ کی جانب سے درخواستیں محدود کیے جانے کے بعد ایجنٹس نے ڈیٹا تک رسائی کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایجنٹس نے ایک ایسے فلٹر کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جو ان کی درخواستوں کو روک رہا تھا، جبکہ بعد ازاں ویب سائٹ کے منتظمین کی جانب سے مجاز نہ کیے گئے طریقوں سے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

تحقیق کے مصنف روون ہاورڈ جونز نے اس سرگرمی کو ڈیٹا حاصل کرنے کی انتہائی جارحانہ کوشش قرار دیا۔ ایک محقق نے اسے ’’ہیکنگ کی حد کے قریب‘‘ قرار دیا، تاہم رپورٹ میں مجموعی طور پر اسے جارحانہ ڈیٹا ایکسیس کی کوشش کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ادارہ ان نتائج کا جائزہ لے رہا ہے اور اقوام متحدہ سے رابطہ کرکے معاملے پر بریفنگ دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے دیگر ویب سائٹس پر بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ایسے واقعات کا وسیع پیمانے پر جائزہ لے رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button