اعظم نذیر تارڑ سے یورپی پارلیمانی وفد کی اہم ملاقات،غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے مزید مکالمے پر اتفاق

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری خان کی سربراہی میں یورپی پارلیمانی وفد نے وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، انسانی حقوق، قانونی امور، جی ایس پی پلس اور جیو اسٹریٹجک معاملات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یورپی پارلیمانی وفد میں ڈینس ہوہلوخ، اسٹینی سلاو اسٹویانوف، توماش فروئلش، ڈین پیڈوک اور موزیز شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر انسانی حقوق نے وفد کو پاکستان کے آئینی و قانونی نظام اور انسانی حقوق سے متعلق پاکستانی مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے داخلی اور قانونی معاملات کو ملکی آئینی، قانونی، سماجی اور علاقائی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے قانونی نظام میں آئینی تقاضوں، ملکی قوانین اور مقامی حقائق کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے آئینی و قانونی حقوق اور اس حوالے سے موجود قانونی فریم ورک سے بھی یورپی وفد کو آگاہ کیا۔

انہوں نے سائبر قوانین کے حوالے سے بتایا کہ ان میں اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی، سائبر جرائم، مالیاتی فراڈ اور دیگر متعلقہ جرائم کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے سائبر قوانین کا یورپ، شمالی امریکا اور مشرق بعید کے قوانین کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی لیا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان اور یورپی ممالک کے قوانین کے تقابلی جائزے پر مبنی دستاویز یورپی وفد کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش بھی کی۔

یورپی پارلیمانی وفد نے پاکستان کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اور خطے کو درپیش چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی مفادات اور مشترکہ چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور یورپ کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر زور دیا۔

وفد کے ارکان نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں یورپی نقطۂ نظر تشکیل دیتے وقت ملک کے ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی تناظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، جبکہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو پاکستانی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

یورپی وفد نے پاکستان کے خلاف جغرافیائی سیاسی مفادات کے تحت الزام تراشی کو نامناسب قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق، جی ایس پی پلس اور دیگر معاملات پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مزید مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفد نے اس بات کی بھی ضرورت پر زور دیا کہ یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کا مؤقف اور پاکستانی نقطۂ نظر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے، جبکہ پاکستان اور یورپ کے درمیان غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے رابطوں اور باہمی مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button