لانگ مارچ میں سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں،بیرسٹر گوہر

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور پی ٹی آئی کے تحفظات سنے جائیں تاکہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آمنے سامنے نہ آئیں۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایسے سنجیدہ حالات میں جب ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو حکومت اور سیاسی جماعت کے درمیان بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی کارکنوں پر نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں، سیاسی لوگوں کی بات سنی جاتی ہے، ان کی شکایات دور کی جاتی ہیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی معاملات میں انا کو ایک طرف رکھنا ہوگا، موجودہ صورتحال کو جنگِ انا نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس سے امن و امان برقرار رہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت پرامن ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی بارہا کہہ چکی ہے کہ اس کی بات نہیں سنی گئی اور اسے انصاف نہیں ملا۔
سہیل آفریدی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو ان پر اعتماد ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے اور انہیں پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ’’غیر اعلانیہ گورنر راج‘‘ ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق صوبائی خودمختاری، عوام کے مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی وزیر کا اپنے ہی صوبے میں لاپتا ہونا یا کسی رکن اسمبلی کی سیاسی بنیادوں پر گرفتاری درست نہیں، سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے سے الجھنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی آگے بڑھی تو اداروں یا اسلام آباد پر حملہ کرے گی، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی پرامن تھی، پرامن ہے اور پرامن رہے گی، اس لیے حکومت کو اس تاثر کا ازالہ کرنا چاہیے۔



