پی ٹی آئی مارچ سے قبل خیبرپختونخوا میں اشیائے خورونوش کی ممکنہ قلت کا خدشہ

پشاور (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل خیبرپختونخوا میں پنجاب سے آنے والی اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر احتجاج کے باعث جی ٹی روڈ اور موٹروے ایم ون بند کی گئی تو خیبرپختونخوا کو اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے ساتھ ساتھ صوبے سے ملک کے دیگر حصوں کو تجارتی سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

موٹروے ایم ون خیبرپختونخوا کو ملک کے دیگر علاقوں سے اشیائے خورونوش کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق دال، چاول اور دیگر بنیادی اشیاء کی سپلائی میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دکانداروں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ موٹروے کی ممکنہ بندش سے سپلائی چین متاثر ہونے کی صورت میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، اس لیے ترسیل میں رکاوٹ کو جلد دور کیا جانا ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کی رات تک پنجاب سے خیبرپختونخوا کے لیے تجارتی سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی۔ تاہم افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث سکیورٹی خدشات بھی برقرار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طورخم کے قریب افغان طالبان کی جانب سے بھیجے گئے چار ڈرونز مار گرائے جانے جبکہ مزید چار ڈرونز کوہاٹ کے قریب گرائے جانے کی اطلاع ہے۔ کوہاٹ سے ملحق قبائلی ضلع کرم کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے دراندازی کی کوشش اور فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے اندر پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ اور مردان سمیت دیگر شہروں کے درمیان تجارتی ٹرکوں کی عام آمدورفت روکنے کا کوئی نیا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق طورخم اور دیگر پاک افغان تجارتی گزرگاہوں کی طویل بندش پہلے ہی خیبرپختونخوا کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور کلیئرنگ ایجنٹس کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button