وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی، امریکی میڈیا کا احتجاج، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے بعد امریکی میڈیا اداروں اور وائٹ ہاؤس کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ تینوں اداروں کے صحافیوں کے پریس پاسز منسوخ کیے گئے اور انہیں وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے دیگر میڈیا اداروں کے خلاف بھی اسی نوعیت کے اقدامات کا عندیہ دیا تھا۔

اس اقدام کے ردعمل میں فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، این بی سی نیوز اور سی این این نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت سے متعلق درست اور آزاد معلومات حاصل کرنے میں اہم مفاد ہے اور کسی انتظامیہ کو محض تنقیدی رپورٹنگ کی بنیاد پر کسی نیوز ادارے کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔

اس کے بعد صدر کے ٹی وی پریس پول نے بھی فی الحال صدارتی تقریبات کی کوریج معطل کردی۔ عام طور پر اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، فاکس اور این بی سی باری باری صدر کی ٹی وی کوریج کرتے اور تیار کردہ ویڈیو دیگر اداروں کو فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ تینوں اداروں کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے رسائی روکنے کا اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ صحافت کے تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے میڈیا اداروں کی رپورٹنگ پر اعتراضات کیے گئے ہیں، جبکہ قانونی تنازع اب وفاقی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

مزید خبریں

Back to top button