فون سننے کیلئے کمرہ عدالت سے باہر جانے پر وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے وضاحت طلب

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی سماعت کے دوران فون سننے کے لیے کمرہ عدالت سے باہر جانے پر وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان سے 23 ستمبر تک وضاحت طلب کر لی گئی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ڈی آئی جی احمد ناصر عمر ورک کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ سماعت سے چند منٹ قبل وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فون سننے کے لیے کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی عدم موجودگی پر استفسار کیا کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کہاں ہیں اور کیس کو ان کے انتظار میں کیوں رکھا جائے؟

عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فون سننے کے لیے کمرہ عدالت سے باہر گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ان کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عدالت کی جانب آ رہے ہیں، اس لیے شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کی جائے۔ عدالت نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے 23 ستمبر تک وضاحت طلب کر لی۔

واضح رہے کہ ڈی آئی جی احمد ناصر عمر ورک نے اگلے گریڈ میں ترقی نہ ملنے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button