جرمنی میں اے ایف ڈی سب سے بڑی جماعت بن گئی، مرز کی سی ڈی یو کو تاریخی دھچکا

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی کے ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے میکلن برگ فورپومرن میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کو ریاستی پارلیمان میں داخلے کے لیے درکار پانچ فیصد کی حد بھی حاصل نہ ہوسکی۔

ابتدائی اندازوں میں اے ایف ڈی کو 37 فیصد اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کو 35.5 فیصد ووٹ ملے تھے، تاہم بعد میں جاری ہونے والے عبوری سرکاری نتائج میں اے ایف ڈی کا حصہ 38.2 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ ایس پی ڈی 35.5 فیصد پر رہی۔

سی ڈی یو کو 4.9 فیصد ووٹ ملے، جو جرمنی کی جنگِ عظیم دوم کے بعد کسی ریاستی انتخاب میں اس جماعت کا بدترین نتیجہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سی ڈی یو کسی ریاست میں پانچ فیصد کی حد عبور نہ کرسکی اور ریاستی پارلیمان سے باہر ہوگئی۔

انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے فریڈرک مرز نے اپنی جماعت کے نتیجے کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ بطور چانسلر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

تازہ نتائج کے مطابق اے ایف ڈی سب سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود مطلق اکثریت حاصل نہیں کرسکی، جبکہ دیگر جماعتوں کے اتحاد کے امکانات کے باعث ریاست میں حکومت سازی کا معاملہ الگ سیاسی مشاورت سے طے ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button