نئے انتظامی یونٹس پاکستان کی مجبوری بن چکے ہیں، مصطفیٰ کمال

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تمام اختیارات اور وسائل چاروں وزرائے اعلیٰ کے پاس منتقل ہوگئے، موجودہ نظام حکومت کے تحت پاکستان کو مؤثر انداز میں نہیں چلایا جاسکتا۔

ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ملک میں صوبائی اختیارات میں اضافہ ہوا اور ان کے بقول چار صوبے عملاً ایسی خودمختار اکائیوں کی شکل اختیار کرگئے ہیں جن کے باعث وفاقی سطح پر حکمرانی کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہی ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی اور گیس کی ضروریات بھی پوری نہیں کی جارہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب محض خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی مجبوری بن چکا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے وسائل متعلقہ یونٹ کی ترقی پر زیادہ مؤثر انداز میں خرچ ہوسکیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے جعلی ڈومیسائل کے ذریعے میرٹ کی خلاف ورزی کا راستہ بھی روکا جاسکے گا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں

Back to top button