ایران پر ٹرمپ کا بڑا فیصلہ قریب، فوجی کارروائی یا مذاکرات؟ امریکی صدر نے مختلف آپشنز بتا دیے

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر جلد ایک اہم فیصلہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے حوالے سے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق ایران سے متعلق ممکنہ راستوں میں فوجی کارروائی، معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا اور معاہدے کی طرف بڑھنا شامل ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور مستقبل قریب میں بڑے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے متعدد شرائط واشنگٹن تک پہنچائی ہیں، جن میں جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے ممکنہ نئی امریکی کارروائی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں امریکی اڈوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا جائے گا۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کرچکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 16 ستمبر کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اختتامی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی کے باعث امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ تازہ سکیورٹی الرٹ میں ممکنہ تیز رفتار کشیدگی اور سفری و فضائی رکاوٹوں کے خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کا آئندہ فیصلہ خطے کی جنگ، مذاکرات اور عالمی توانائی کی صورتحال پر اثرانداز ہوسکتا ہے، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن فوجی کارروائی، مزید معاشی دباؤ یا مذاکرات میں سے کس راستے کو اختیار کرے گا۔

مزید خبریں

Back to top button