افغان طلبہ سے یکجہتی محبت سے زیادہ سیاسی رجحان کی عکاس ہے،خواجہ آصف کاپاکستانی طلبہ کو جواب

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے پاکستانی طلبہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طلبہ سے یکجہتی کا یہ طرزِعمل محبت سے زیادہ سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغان شہریوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں شریک کیا۔وفاقی وزیر دفاع کے مطابق نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان نے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا اور امید تھی کہ پاکستان کی سرحد محفوظ ہوگی اور دونوں ہمسایہ ممالک امن کے ساتھ رہیں گے۔
افغان طلبہ کے حق میں سرگرم ترقی پسند یا لبرل نوجوانوں کی اصل حکمت عملی اور مقاصد کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا مؤقف ٹھوس دلائل پر مبنی نہیں۔ ان کی تیاری اتنی سطحی ہے کہ جب کوئی رپورٹر نصاب سے ہٹ کر زمینی حقائق پر سوال اٹھاتا ہے، تو یہ کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہتے… pic.twitter.com/7Svof3wFIv
— صحرانورد (@Aadiiroy2) September 19, 2026
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مساجد، اسکولوں، بازاروں اور فوج پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد رہی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض افغان عناصر پاکستان کے دشمن بھارت کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے علاوہ فوجی و سول قیادت کے افغان شہریوں کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ رابطے بھی جاری رہے ہیں، تاہم ان کے بقول ان رابطوں کے باوجود افغانوں کی مبینہ نفرت اور دشمنی میں کمی نہیں آئی۔
پاکستانی طلبہ کی جانب سے افغان طلبہ سے اظہارِ یکجہتی پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ طرزِعمل ان کے نزدیک محبت سے زیادہ سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستانی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ افغان طلبہ کے ساتھ اظہارِ خیرسگالی کرنا چاہتے ہیں تو افغانستان کی کسی درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے خون کو نظرانداز کرنا قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو خبردار کیا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی محبت میں اس حد تک آگے نہ جائیں کہ پاکستانی جانوں کی قربانی انہیں معمولی محسوس ہونے لگے۔
واضح رہے کہ افغان طلبہ کی پاکستان میں تعلیم کا معاملہ اس وقت عدالتی کارروائی کا بھی حصہ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے احکامات پر عارضی طور پر عمل درآمد معطل کر رکھا ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے بھی متعلقہ درخواست گزار طلبہ کے خلاف کارروائی سے روکا ہے۔



