ایران میں اسرائیل کو میزائل تنصیبات کی معلومات دینے کے الزام میں شخص کوسرعام پھانسی

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران نے ملکی میزائل سائٹس کی خفیہ معلومات اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کو فراہم کرنے کے جرم میں حسین پدران نامی شخص کو پھانسی دے دی۔

ایرانی محکمہ انصاف (عدلیہ) نے ہفتے کے روز باقاعدہ اعلان کیا کہ اسرائیل کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی موساد کو ایران کے حساس ترین میزائل مقامات کی کرنے والے ایک شخص کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچادیا گیا۔

عدالتی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سزائے موت پانے والے مجرم کی شناخت حسین پدران کے نام سے ہوئی ہے۔

مجرم پر الزام تھا کہ اس نے وسطی ایران کے انتہائی اہم صوبے اصفہان میں قائم ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی خفیہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات اور فوجی اڈوں کی نقشہ سازی کی اور حساس معلومات موساد کے کارندوں کے حوالے کیں۔

واضح رہے کہ صوبہ اصفہان ایران کا وہ اسٹریٹجک علاقہ ہے جہاں ملک کے اہم ترین جوہری اور میزائل مراکز قائم ہیں اور ماضی میں بھی یہ علاقہ مبینہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

ایرانی عدلیہ نے اپنے سرکاری بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ حسین پدران کو کب گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ کب اور کس عدالت میں چلایا گیا۔

ایران میں عام طور پر ایسے ہائی پروفائل جاسوسی کے مقدمات کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے اور انقلابی عدالتوں (Revolutionary Courts) میں بند کمرے کی سماعت کے بعد براہِ راست سزائے موت کا حکم سنایا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران حالیہ مہینوں میں داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشکوک جاسوسوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حسین پدران کی پھانسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکہ، ایران، اسرائیل اور حوثی باغیوں کے درمیان ایک ہمہ گیر جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

تاحال اسرائیل کی حکومت یا موساد کی جانب سے اس پھانسی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button