کھا پی کر بھی بھوکے: وجوہات اور تدارک

راجہ نوید
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بھرپور کھانا کھانے یا کچھ دیر پہلے کچھ پینے کے باوجود آپ کو دوبارہ شدید بھوک محسوس ہونے لگتی ہے؟ یہ ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ ہے جو نہ صرف روزمرہ کی توانائی کو متاثر کرتا ہے بلکہ وزن میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
معروف طبی رپورٹس کے مطابق، مسلسل بھوک کا احساس محض طبعی طلب نہیں بلکہ اس کے پیچھے جسمانی اور طرزِ زندگی سے جڑے کئی اہم عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ آئیے اس کی اہم وجوہات اور ان کے تدارک (حل) پر نظر ڈالتے ہیں:
اہم وجوہات
پروٹین اور فائبر کی کمی: ایسی غذاؤں کا استعمال جن میں پروٹین اور غذائی ریشے (فائبر) ناکافی ہوں، پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا ہوا نہیں رکھتیں، جس کی وجہ سے بہت جلد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔
نیند کی کمی: ضرورت سے زیادہ سونا یا نیند کا پورا نہ ہونا بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز (لیپٹن اور گرلین) کا توازن بگاڑ دیتا ہے، جو دن بھر زیادہ کھانے کی اشتہا کو ابھارتا ہے۔
پانی کی کمی (پیاس اور بھوک کا خلط ملط ہونا): اکثر اوقات جسم کو پانی یا مائع کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہم اس سگنل کو بھوک سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ریفائنڈ کاربوہائیڈرات کا زیادہ استعمال: سفید آٹے، بیکری کی اشیاء اور چینی جیسی چیزیں خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے اوپر اور نیچے لے جاتی ہیں، جس سے بار بار بھوک کا احساس ہوتا ہے۔
ذہنی دباؤ اور تناؤ: ذہنی دباؤ اور پریشانی کے عالم میں جسم میں ‘کورٹیسول’ نامی ہارمون بڑھ جاتا ہے، جو بھوک کو تیز کرتا ہے اور انسان کو جذباتی طور پر زیادہ کھانے پر اکساتا ہے۔
سخت ڈائٹ یا ورزش کی زیادتی: انتہائی محدود ڈائٹ پر عمل کرنا یا اچانک جسمانی محنت و ورزش بڑھا دینا جسم کو اضافی توانائی کے لیے بار بار بھوک کا سگنل دینے پر مجبور کرتا ہے۔
پوشیدہ طبی مسائل: بعض اوقات مسلسل بھوک کی وجہ کوئی طبی مسئلہ ہو سکتا ہے، جیسے کہ تھائیراید کا ضرورت سے زیادہ فعال ہونا، ذیابیطس، یا کچھ خاص دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس۔
مؤثر تدارک (حل)
متوازن غذا کا انتخاب: اپنے کھانوں میں پروٹین (جیسے انڈے، دالیں، گوشت) اور فائبر (سبزیاں، پھل، ثابت اناج) کی مقدار بڑھائیں تاکہ پیٹ طویل عرصے تک بھرا رہے۔
پانی کا مناسب استعمال: کھانا کھانے سے پہلے یا جب بھی اچانک بھوک کا احساس ہو، ایک گلاس پانی پئیں تاکہ پیاس اور بھوک کا فرق واضح ہو سکے۔
معیاری نیند کو یقینی بنائیں: روزانہ 7 سے 8 گھنتے کی پرسکون نیند لیں تاکہ بھوک کے ہارمونز متوازن رہیں۔
ریفائنڈ شوگر سے پرہیز: سفید آٹے اور میٹھی چیزوں کی جگہ پیچیدہ کاربوہائیڈرات استعمال کریں تاکہ خون میں شوگر کی سطح مستحکم رہے۔
تناؤ پر قابو پانا: مراقبہ، گہری سانس لینے کی مشقوں یا چہل قدمی کے ذریعے ذہنی دباؤ کو کم کریں۔
اگر تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود مسلسل اور بے قابو بھوک کا مسئلہ برقرار رہے، تو کسی ماہرِ غذائیت یا ڈاکٹر سے مشورے لیں۔



