پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کی پاکستانی سمندری حدود میں مبینہ خلاف ورزی پر شدید احتجاج

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں مبینہ خلاف ورزی اور پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش پر شدید احتجاج کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی ہے، جبکہ 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر موجود ہیلی کاپٹر نے مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی متعدد کوششیں کیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے پاک بحریہ کے جہازوں کے قریب خطرناک اور اشتعال انگیز انداز اختیار کیا اور متعدد انتباہات کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
دفتر خارجہ نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں کو معمول کی تعیناتی قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
پاکستان کے مطابق 15 ستمبر کو آئی این ایس کولکتہ نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں اس کی پی این ایس حنین سے رگڑ ہوئی۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق پی این ایس حنین نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی، جبکہ واقعے کے بعد بھارتی بحری جہاز نے رفتار بڑھا کر علاقہ چھوڑ دیا۔
دفتر خارجہ نے واقعے کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائی سنگین بحران کا باعث بن سکتی تھی، تاہم پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکے رکھا۔
پاکستان نے بھارتی بحریہ کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری اور ذمہ دارانہ طرز عمل یقینی بنائے، جبکہ ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے واقعے سے متعلق اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے ذمہ داری پاکستانی بحری یونٹ پر عائد کی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے سرکاری بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پاکستان نے بھارتی اقدام پر سفارتی احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔



