ڈیپلو تعلقہ میں درختوں کی کٹائی، لکڑی مافیا نے دیہاتیوں کے خلاف محاذ کھول دیا، خودکشی کی دھمکی

تھرپارکر(جانوڈاٹ پی کے) تعلقہ ڈیپلو کے مختلف دیہات ڈیڑو، ڈابھڑی، سجائی، سنگلی، واہر، ترکِیار، کھرہلو، کھوروڑو، ارجک اور لسئیو کے رہائشیوں نے علاقے میں مبینہ غیرقانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف پریس کلب ڈیپلو کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
احتجاج کرنے والے عبدالغنی ہالو ڈیڑو، سوائی ٹھاکر سجائی، میوارام ساقی اور دیگر نے کہا کہ درخت تھر کے ماحول، مویشیوں کے چارے اور مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے انتہائی اہم ہیں، جبکہ درختوں کی مبینہ کٹائی سے علاقے کے ماحولیاتی نظام اور مقامی لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
عبدالغنی ہالو نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں تقریباً 10 ہزار درختوں کو نقصان پہنچایا یا کاٹ دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ درختوں کی کٹائی میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
میوارام ساقی نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد کے مبینہ اثر و رسوخ کے باعث درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ درختوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور علاقے میں مزید درختوں کی کٹائی روکی جائے۔
احتجاج کرنے والوں نے محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں درختوں کی مبینہ غیرقانونی کٹائی کا نوٹس لے کر معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کوئی غیرقانونی سرگرمی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر قومی امن کونسل آر ہیومن رائٹس کے نائب صدر ریاض احمد عمرانی بھی موجود تھے۔



