25ہزار سال پرانی حیران کن دریافت، قدیم انسان چھالیہ چبانے کا عادی تھا!

سولاویسی (جانو ڈاٹ پی کے) سائنس دانوں نے تقریباً 25 ہزار سال قدیم انسان کے ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چھالیہ یعنی بیٹل نٹ (Betel Nut) چبایا کرتا تھا۔ نئی دریافت نے انسانی تاریخ میں نفسیاتی اثرات رکھنے والی اشیا کے استعمال سے متعلق موجود تصورات کو بھی بدل دیا ہے۔

گریفتھ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق یہ قدیم انسان شکاری اور خوراک جمع کرنے والا تھا، جو آئس ایج کے آخری حصے کے دوران انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں آباد تھا۔

ماہرین کے مطابق بیٹل نٹ چبانے سے معمولی نشے جیسا احساس اور چوکنا پن پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ آج بھی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ایڈم برم کے مطابق مغربی معاشروں میں بیٹل نٹ کے بارے میں معلومات نسبتاً محدود ہیں، تاہم عالمی سطح پر الکوحل، کیفین اور نکوٹین کے بعد یہ نفسیاتی اثرات رکھنے والی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیا میں شمار ہوتی ہے۔

انسانی تاریخ کے بارے میں اہم انکشاف

اس دریافت نے انسان کی جانب سے منشیات یا نفسیاتی اثرات رکھنے والی اشیا کے استعمال کی تاریخ سے متعلق سابقہ تصور کو بھی چیلنج کردیا ہے۔

اس سے قبل عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسانوں نے ایسی اشیا کا استعمال تقریباً 13 ہزار سال قبل نیو لیتھک دور میں شروع کیا تھا، تاہم سولاویسی سے ملنے والے نئے شواہد اس تاریخ کو 10 ہزار سال سے بھی زیادہ پیچھے لے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت اس بات کی نئی جھلک فراہم کرتی ہے کہ ہزاروں سال پہلے کے انسان نہ صرف مختلف نباتاتی وسائل سے واقف تھے بلکہ ممکنہ طور پر ان کے نفسیاتی اثرات سے بھی فائدہ اٹھاتے تھے۔

مزید خبریں

Back to top button