سی سی ٹی وی فوٹیج پر سزا کا قانونی جواز کیا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ نے اہم سوالات اٹھا دیے

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو شہادت کے قانونی و شرعی استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو طلب کرلیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے عمر قید کے مجرم راجہ شاہد کی اپیل پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کی گئی ویڈیو شہادت سے متعلق اہم قانونی اور فرانزک نکات سامنے آئے ہیں، جن پر ماہرین کی معاونت ضروری ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہ ہوں تو کیا صرف فوٹیج کی بنیاد پر شناخت کرکے ملزم کو سزا دینا قانونی طور پر درست ہوگا؟ عدالت نے پرائیویٹ طور پر حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کی قانونی حیثیت، قابلِ قبولیت اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نقائص پر بھی وضاحت طلب کی۔
تحریری حکم میں یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا محض سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا دی جاسکتی ہے اور کیا فوٹیج کی روشنی میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات مسترد کیے جاسکتے ہیں؟
لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کی پکسل انہانسمنٹ اور فرانزک بنیادوں پر دوبارہ تجزیے کی ضرورت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ سماعت کے دوران قتل کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھلی عدالت میں چلا کر اس کا جائزہ بھی لیا گیا۔
عدالت نے ویڈیو اور الیکٹرانک شہادت سے متعلق قانونی نکات پر معاونت کے لیے سپریم کورٹ کی وکیل شیبا قیصر اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد نوید عمر بھٹی کو معاونینِ عدالت مقرر کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری عرفان صادق تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قانونی و فرانزک نکات پر معاونت طلب کرلی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ویڈیو شہادت کے استعمال، تصدیق، ملزمان کی شناخت اور قابلِ قبولیت سے متعلق قانونی اصولوں کی وضاحت ضروری ہے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔



